Saturday, 15 August 2020

حریف کوئی نہیں دوسرا بڑا میرا

حریف کوئی نہیں دوسرا بڑا میرا
سدا مجھی سے رہا ہے مقابلہ میرا
مِرے بدن پہ زمانوں کی زنگ ہے لیکن
میں کیسے دیکھوں شکستہ ہے آئینہ میرا
مِرے خلاف زمانہ بھی ہے، زمین بھی ہے
منافقت کے محاذوں پہ مورچہ میرا
میں کشتیوں کو جلانے سے خوف کھاتا نہیں
زمانہ دیکھ چکا ہے یہ حوصلہ میرا
مِرے سوال سے ہر شخص کو ملال ہوا
پہ حل کِیا نہ کسی نے بھی مسئلہ میرا

اسعد بدایونی

No comments:

Post a Comment