منزل دراز و دور ہے اور ہم میں دم نہیں
ہوں ریل پر سوار تو دام و درم نہیں
میدان زندگی میں کریں دوڑ دھوپ کیا
ہم ایسے ناتواں ہیں کہ اٹھتا قدم نہیں
اغیار کیوں دخیل ہیں بزمِ سرور میں؟
جب تک ہے عشق و عاشق و معشوق میں تمیز
کھلتا کسی پہ رازِ حدوث و قدم نہیں
آدم پہ معترض ہوں فرشتے تو کیا عجب
چکھی ہنوز چاشنئ زہرِ غم نہیں
اظہارِ حال کا بھی ذریعہ نہیں رہا
دل اتنا جل گیا ہے کہ آنکھوں میں نم نہیں
تُو ہی نہیں ہے رمز محبت سے آشنا
ورنہ، دیارِ حسن میں رسمِ ستم نہیں
سر ہی کے بل گئے ہیں سدا رہروانِ عشق
حیرت زدہ نہ بن کہ نشانِ قدم نہیں
کیسی طلب، کہاں کی طلب، کس لیے طلب
ہم ہیں تو وہ نہیں ہے، جو وہ ہے تو ہم نہیں
اسماعیل میرٹھی
No comments:
Post a Comment