Sunday, 16 August 2020

عجب دن تھے کہ ان آنکھوں میں کوئی خواب رہتا تھا

عجب دن تھے کہ ان آنکھوں میں کوئی خواب رہتا تھا
کبھی حاصل ہمیں خس خانہ و برفاب رہتا تھا
ابھرنا ڈوبنا اب کشتیوں⛵ کا ہم کہاں دیکھیں
وہ دریا کیا ہوا جس میں سدا گرداب رہتا تھا؟
وہ سورج سو گیا ہے برف زاروں میں کہیں جا کر
دھڑکتا رات دن جس سے دل بے تاب رہتا تھا
جسے پڑھتے تو یاد آتا تھا تیرا پھول 🎕سا چہرہ
ہماری سب کتابوں📖 میں اک ایسا باب رہتا تھا
سہانے موسموں میں اس کی طغیانی قیامت تھی
جو دریا گرمیوں کی دھوپ میں پایاب رہتا تھا

اسعد بدایونی

No comments:

Post a Comment