پیارے پیارے موسم آئے رنگوں کے فواروں جیسے
پتے تیری آنکھوں جیسے پھول تیرے رخساروں جیسے
پل دو پل میں پھٹ جائیں گے اور ٹکڑوں میں بٹ جائیں گے
تیرے میرے سپنے کیا ہیں؟ بچوں کے غباروں جیسے
رات مجھے اک خواب آیا تھا میں دشمن فوجوں میں گھرا ہوں
دنیا ایک سمندر جس میں، ہم دونوں کا ربط ہے اتنا
جسم تِرا کشتی کی صورت ہاتھ مِرے پتواروں جیسے
وہ ہے اچھی صورت والا، پیاری موزوں قامت والا
باتیں اس کی بادل جیسی، لفظ اس کے بوچھاروں جیسے
اسعد بدایونی
No comments:
Post a Comment