Sunday, 16 August 2020

پیارے پیارے موسم آئے رنگوں کے فواروں جیسے

پیارے پیارے موسم آئے رنگوں کے فواروں جیسے
پتے تیری آنکھوں جیسے پھول تیرے رخساروں جیسے
پل دو پل میں پھٹ جائیں گے اور ٹکڑوں میں بٹ جائیں گے
تیرے میرے سپنے کیا ہیں؟ بچوں کے غباروں جیسے
رات مجھے اک خواب آیا تھا میں دشمن فوجوں میں گھرا ہوں
آنکھ کھلی تو سوچا میں نے، سب چہرے تھے یاروں جیسے
دنیا ایک سمندر جس میں، ہم دونوں کا ربط ہے اتنا
جسم تِرا کشتی کی صورت ہاتھ مِرے پتواروں جیسے
وہ ہے اچھی صورت والا، پیاری موزوں قامت والا
باتیں اس کی بادل جیسی، لفظ اس کے بوچھاروں جیسے

اسعد بدایونی

No comments:

Post a Comment