ہزار دھکے لگاؤں تو لاری چلتی ہے
لکیر ہاتھ میں قسمت کی ماری چلتی ہے
ہمارے شہر کا اپنا مزاج ہے اے دوست
یہاں دکان نہیں، ریزگاری چلتی ہے
درخت سسکیاں بھرتے ہیں جب کہانی میں
ذرا سی دیر میں منہ کڑوا ہونے لگتا ہے
مٹھاس میں بھی کہاں پائیداری چلتی ہے
میں اپنے ہنستے ہوئے لوگ چھوڑ آیا تھا
سو اب یہ مجلسِ گریہ و زاری چلتی ہے
حضور زخم بنانے پڑیں گے کاغذ پر
سنا ہے آپ کی مرہم نگاری چلتی ہے
درخت روز بتاتا ہے اپنی چھاؤں کو
پرندگان میں کیا رازداری چلتی ہے
ہنسوں تو آنکھ سے آنسو نکلنے لگتے ہیں
خوشی کا دن ہے مگر سوگواری چلتی ہے
عاطف کمال رانا
No comments:
Post a Comment