Saturday, 8 August 2020

ہزار دھکے لگاؤں تو لاری چلتی ہے

ہزار دھکے لگاؤں تو لاری چلتی ہے
لکیر ہاتھ میں قسمت کی ماری چلتی ہے
ہمارے شہر کا اپنا مزاج ہے اے دوست
یہاں دکان نہیں، ریزگاری چلتی ہے
درخت سسکیاں بھرتے ہیں جب کہانی میں
گھٹن کی ماری ہوا اور بھاری چلتی ہے
ذرا سی دیر میں منہ کڑوا ہونے لگتا ہے
مٹھاس میں بھی کہاں پائیداری چلتی ہے
میں اپنے ہنستے ہوئے لوگ چھوڑ آیا تھا
سو اب یہ مجلسِ گریہ و زاری چلتی ہے
حضور زخم بنانے پڑیں گے کاغذ پر
سنا ہے آپ کی مرہم نگاری چلتی ہے
درخت روز بتاتا ہے اپنی چھاؤں کو
پرندگان میں کیا رازداری چلتی ہے
ہنسوں تو آنکھ سے آنسو نکلنے لگتے ہیں
خوشی کا دن ہے مگر سوگواری چلتی ہے

عاطف کمال رانا

No comments:

Post a Comment