وہ گلی اور وہ مکاں اور وہ دریچہ پھوٹا
شہر "پھوٹا" تو درِ "یار" کا نقشہ پھوٹا
پیڑ کی چھاؤں میں پہنچا تو کیا بستر یاد
اینٹ رکھی تو مِرے ذہن میں تکیہ پھوٹا
ناگہاں ایسے لگا جیسے کہ تم آتے ہو
ریل گاڑی کا سفر میں نے کیا تھا، مجھ میں
اسی "دوران" مِرا "عہدِ گزشتہ" پھوٹا
دوست کی خوشبو مجھے آئی تھی اک دستک پر
پہلے "دروازہ" کھلا،۔ پھر وہ "کمینہ" پھوٹا
ایک تصویر سے ابھری تھی کسی ماں کی لاش
ایک "تصویر" سے روتا ہوا "بچہ" پھوٹا
عاطف کمال رانا
No comments:
Post a Comment