Saturday, 8 August 2020

چراغ گھر سے نکالا ہوا سمیت میاں

یہ فیصلہ بھی کیا بد دعا سمیت میاں
چراغ گھر سے نکالا، ہوا سمیت میاں
یہ قرضِ عشق ہے پھر بھی ادا نہیں ہو گا
بدن ادھیڑ بھی لوں گر قبا سمیت میاں
میں جب بھی قبر میں ماں کو صدائیں دیتا ہوں
وہ اٹھ کے آتی ہے باہر "دعا" سمیت میاں
کچھ اتنا ڈوب کے گائی تھی عابدہ کل رات
مجھے بھی حال پڑے صوفیا سمیت میاں
میں اس سے ملتا تو شاید خدا سے بھی ملتا
قضا ہوئی ہے یہ مغرب، عشا سمیت میاں
تمہارے عشق میں مر کر بھی سانس لیتا ہوں
شہید "زندہ" ہو جیسے "غذا" سمیت میاں

عاطف کمال رانا

No comments:

Post a Comment