Friday, 4 September 2020

تلخابۂ غم خندہ جبیں ہو کے پئے جا

تلخابۂ غم خندہ جبیں ہو کے پئے جا
موہوم امیدوں کے سہاروں پہ جئے جا
مایوس نہ ہو بے رخیٔ چشم جہاں سے
شائستہ احساس کوئی کام کیے جا
شکوہ نہ کر اس دورِ جنوں زاد کا کوئی
تقدیرِ خِرد سوز کو الزام دئیے جا
اوروں کو گریباں کی تجھے فکر ہی کیوں ہو
تُو اپنی ہی صد چاکئ داماں کو سِیے جا
اس جبرِِ مشیت کو تو سہنا ہی پڑے گا
بے کیف سہی ان کے اشاروں پہ جئے جا
ساقی کی نظر سے کوئی نسبت ہے تو انور
پینے کی ادا یہ بھی ہے، بے جام پئے جا

انور صابری

No comments:

Post a Comment