تلخابۂ غم خندہ جبیں ہو کے پئے جا
موہوم امیدوں کے سہاروں پہ جئے جا
مایوس نہ ہو بے رخیٔ چشم جہاں سے
شائستہ احساس کوئی کام کیے جا
شکوہ نہ کر اس دورِ جنوں زاد کا کوئی
اوروں کو گریباں کی تجھے فکر ہی کیوں ہو
تُو اپنی ہی صد چاکئ داماں کو سِیے جا
اس جبرِِ مشیت کو تو سہنا ہی پڑے گا
بے کیف سہی ان کے اشاروں پہ جئے جا
ساقی کی نظر سے کوئی نسبت ہے تو انور
پینے کی ادا یہ بھی ہے، بے جام پئے جا
انور صابری
No comments:
Post a Comment