اسی کی ہو گئی ہوں رفتہ رفتہ
اسی میں کھو گئی ہوں رفتہ رفتہ
میں کشتِ زیست میں فصلوں کی صورت
کچھ آنسو بو گئی ہوں رفتہ رفتہ
گزاری ہیں ہزاروں دُکھ کی راتیں
بہادر ہو گئی ہوں رفتہ رفتہ
ستم سہہ کر رہی خاموش صدیوں
وہ سمجھا سو گئی ہوں رفتہ رفتہ
میں ہو کر بے خطا مجرم ہی ٹھہری
تو باغی ہو گئی ہوں رفتہ رفتہ
جفا خُو سے وفائیں کرتے کرتے
دِوانی ہو گئی ہوں رفتہ رفتہ
عیاں پتھر کے سینے میں ٹھہر کر
میں پانی ہو گئی ہوں رفتہ رفتہ
رشیدہ عیاں
No comments:
Post a Comment