نوکری
صاحب عجب بے داد ہے، محنت ہمہ برباد ہے
اے دوستاں فریاد ہے، یہ نوکری کا خطر ہے
ہمنام کیوں اسوار ہیں، روزگار سیں بیزاری ہے
یارو! ہمیشہ خوار ہیں، یہ نوکری کا خطر ہے
نوکر فدائی خاں کے، محتاج آدھے نان کے
تابع ہیں بے ایمان کے، یہ نوکری کا خطر ہے
جعفر زٹلی
No comments:
Post a Comment