Thursday, 8 July 2021

کبھی سکوں تو کبھی اضطراب بھی جھیلا

 کبھی سکوں تو کبھی اضطراب بھی جھیلا

کھلی جو آنکھ تو انجام خواب بھی جھیلا

قدم قدم پہ پرانے سبق بھی یاد آئے

قدم قدم پہ بدلتا نصاب بھی جھیلا

بیاضِ دل کے سنہرے حروف بھی چُومے

کتابِ جاں پہ لکھا انتساب بھی جھیلا

ہمارا حق بھی مسلّم تھا قطرے قطرے پر

ہمیں نے تشنہ لبی کا عذاب بھی جھیلا

کبھی جو آئینہ خانے کی سیر کو نکلے

تو ایک منظرِ خود احتساب بھی جھیلا

چلے تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلے

رُکے تو عالمِ خود اجتناب بھی جھیلا

نجانے کس کی رہی جستجو ضیا ہم کو

کہ ہم نے اک دلِ خانہ خراب بھی جھیلا


ضیا فاروقی

No comments:

Post a Comment