ڈھونڈے ڈھونڈے نہ جہاں سایہ دیوار ملے
کیا ہو اس شہر میں گر دھوپ کا آزار ملے
موت کا خوف نہیں ہے مجھے یا رب، لیکن
التجا اتنی ہے تجھ سے کہ بس اک بار ملے
بال و پر ہی نہ تھے ان وقت كے ماروں كے پاس
ورنہ اڑنے کو پرندے کئی تیار ملے
اب نہ منزل کی طلب ہے نہ کسی ساتھی کی
آپ اس موڑ پہ آ کر ہمیں بے کار ملے
یہ سنا تھا کہ ہیں معبود صنم اور خدا
پر یہاں ہم کو فقط زر كے پرستار ملے
اس سے ہم نفرتِ دنیا کا گلہ کیا کرتے
آئینے میں بھی ہمیں بغض كے آثار ملے
زیست کو کاٹ رہے ہیں جو سزا کی مانند
عابد ایسے بھی ہمیں چند گنہگار ملے
عرفان عابد
No comments:
Post a Comment