دیکھنے سوچنے کی لت ہی نہیں
بولنے والوں کو فرصت ہی نہیں
سنیے تو طرزِ تکلم ہیں یہ اشک
کام آنکھوں کا بصارت ہی نہیں
ایسے لوگوں سے بھری ہے دنیا
جن کی دنیا کو ضرورت ہی نہیں
ایڑیاں دیکھی ہیں بوڑھی ماں کی
دشت ہے پاؤں میں جنت ہی نہیں
اور ہیں کتنے تعلق جانے
آپ سے صرف محبت ہی نہیں
انعام کبیر
No comments:
Post a Comment