تلاش
وہی راستہ کہ
جہاں اک کڑا اور مشکل سفر
آنکھ پھاڑے مجھ دیکھتا، گھورتا ہے
اُسی راستے پر قدم تھے ہوا کے
میں پیچھے چلا
اور چلتا گیا
اک پہاڑی پہ آ کر قدم مٹ گئے تھے ہوا کے اچانک
جہاں مجھ کو گھیرا تھا آسیب نے
میری چیخیں کوئی کس طرح واں پہ سنتا
وہاں کون آتا بچانے مجھے
مجھ کو مجھ سے وہ ایسے چرا لے گئی
اب اسی راستے پر میں نکلا ہوا ہوں
وہی راستہ کہ
جہاں اک کڑا اور مشکل سفر
آنکھ پھاڑے مجھ دیکھتا گھورتا تھا
مگر اب ہوا کے نشاں بھی نہیں ہیں
نہ آسیب ہے اور میں بھی نہیں ہوں
مگر چل رہا ہوں نشاں پانے کی جستجو میں
لہو سے مِرے پاؤں تر ہیں
نہیں ہوں
مگر پھر بھی
میں چل رہا ہوں
وصاف باسط
No comments:
Post a Comment