Thursday, 2 September 2021

میرے حصے کی شاید یہی آگ ہے

 ایک آتش فشاں کے الاؤ تلے

برفزاروں کے من میں چھپی آگ ہے

اک حنائی ہتھیلی سے رستے ہوئے

دودھیا حسن کی ریشمی آگ ہے

موج در موج اشکوں میں سوئی ہوئی

نیند کے سنگ اک جاگتی آگ ہے

اے قیامت

تِری اجنبی خوابگاہوں میں

جلتی ہوئی اجنبی آگ ہے

اور ادھر

اک چِتا میں پگھلتی ہوئی

من کے اندر جھلستے ہوئے شہر کی

راکھ ہوتی ہوئی سر پھری آگ ہے

میں نہ جانے سلگتے ہوئے اک ابد کی

طلب میں کہاں تک بھٹکتا رہا

جس جگہ اک حرارت فشاں آگ تھی

میں ازل سے وہاں تک بھٹکتا رہا

راستوں میں کئی راستے کھو گئے

منزلیں تھک گئیں، جاگتے سو گئے

میں بھٹکتا رہا

پھر اچانک درِ چشم روشن ہوا

میں نے دیکھا فضا میں بڑی دور تک

جادۂ ذات سے وادئ طور تک

جگمگاتی ہوئی سرمدی آگ ہے

میرے حصے کی شاید یہی آگ ہے


شکیل پتافی

No comments:

Post a Comment