Saturday, 25 December 2021

مجھے ابھی بھی تم سے محبت ہے

 ممکن ہے

زمین اپنے مدار میں گھومتے گھومتے تھک جائے 

اور سکون کے چند لمحوں کی خاطر 

کسی دوسرے سیارے پر پڑاؤ ڈال لے

چاند آگ کے گولے سے 

مستعار میں لی گئی روشنی سے انکار کر کے

کُرۂ عرض کے تمام نکات کو تاریکیوں سے بھر دے

رات پھیلے اور پَو پھٹنے پر 

صبح اندھیروں سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے

اپنی تازگی سے بھرپور کرنیں پھیلانے سے 

انکار کر دے

کسی روز میں تمہاری منتیں کرتے کرتے اُکتا جاؤں 

اور اس محبت نامی بَلا کو رَد کرتے ہوئے

اپنے مدار سے نکل کر کسی دوسرے خطے کو

اپنا مسکن بنا لوں

سب ممکن ہے 

لیکن فی الوقت اس سوچ کو نکال پھینکتے ہیں

کیونکہ سورج چاند اور رات کی مانند 

میں اب بھی اپنی مقرر کردہ حدود پہ قائم ہوں 

مجھے ابھی بھی تم سے محبت ہے


طوبیٰ منہاس

No comments:

Post a Comment