ممکن ہے
زمین اپنے مدار میں گھومتے گھومتے تھک جائے
اور سکون کے چند لمحوں کی خاطر
کسی دوسرے سیارے پر پڑاؤ ڈال لے
چاند آگ کے گولے سے
مستعار میں لی گئی روشنی سے انکار کر کے
کُرۂ عرض کے تمام نکات کو تاریکیوں سے بھر دے
رات پھیلے اور پَو پھٹنے پر
صبح اندھیروں سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے
اپنی تازگی سے بھرپور کرنیں پھیلانے سے
انکار کر دے
کسی روز میں تمہاری منتیں کرتے کرتے اُکتا جاؤں
اور اس محبت نامی بَلا کو رَد کرتے ہوئے
اپنے مدار سے نکل کر کسی دوسرے خطے کو
اپنا مسکن بنا لوں
سب ممکن ہے
لیکن فی الوقت اس سوچ کو نکال پھینکتے ہیں
کیونکہ سورج چاند اور رات کی مانند
میں اب بھی اپنی مقرر کردہ حدود پہ قائم ہوں
مجھے ابھی بھی تم سے محبت ہے
طوبیٰ منہاس
No comments:
Post a Comment