Thursday, 2 December 2021

ہم سے اب دل کی حمایت بھی نہیں ہوتی ہے

 ہم سے اب دل کی حمایت بھی نہیں ہوتی ہے

اِس محبت سے بغاوت بھی نہیں ہوتی ہے

اب تو وہ میرے بِنا بھی سدا خوش رہتا ہے

اب اُسے میری ضرورت بھی نہیں ہوتی ہے

جس کے دو چار جہاں بھر میں نہ دشمن ہوں میاں

ایسے لوگوں کی تو عزت بھی نہیں ہوتی ہے

پہلے کرتے تھے کبھی اُن سے شکایت ہم بھی

اب تو ہم سے یہ جسارت بھی نہیں ہوتی ہے

لوگ رکھتے ہیں ضرورت کے مطابق رشتے

بے وفاؤں کو نِدامت بھی نہیں ہوتی ہے

کون کرتا ہے یوں بے لوث وفائیں اب کے

اب کسی شخص میں ہمت بھی نہیں ہوتی ہے

اب تو نفرت کا بھی یہ لوگ صِلہ مانگتے ہیں

اور یک طرفہ محبت بھی نہیں ہوتی ہے


عجیب ساجد

No comments:

Post a Comment