امن خواب نہ رہے
وہ صبح بد ترین تھی
کانپ اُٹھا تھا آسماں
لرز گئی زمین تھی
وہ صبح بد ترین تھی
درسگاہ میں ہر طرف
گولیوں کی گونج میں
وحشیوں کا رقص تھا
بکھر رہے تھے سارے رنگ
مر رہی تھی آرزو
عِلم و فن کی جستجو
وہ صبح بد ترین تھی
مائیں صبر کیا کریں؟
کیوں نہ باپ رو پڑیں؟
قرارِ جاں نہیں رہا
جگر کا خون ہو گیا
گُودیاں اُجڑ گئیں
نظر کا نُور چھن گیا
ترنگ کوئی نہیں رہی
دل میں زندگی کی اب
ذرا امنگ نہیں رہی
درد نہ تھمے گا یہ
زخم نہ بھرے گا یہ
پَل میں سب بدل گیا
شوخیاں، شرارتیں
لاڈ، پیار، وہ ضِدیں
قلم، کتاب، کاپیاں
موتی جیسے حرف وہ
سبق پرانا اور نیا
کچھ بھی تو نہیں بچا
لحد سے اپنے پیر پر
چل کے کون آ سکا
گُزر گئے جو پل انہیں
کہاں کوئی بُلا سکا
کر رہے ہیں یاد ہم
منا رہے ہیں اُن کا غم
اب نہیں جو ہم قدم
ہتھیلیاں جُڑی ہوئی
ہیں گردنیں جُھکی ہوئی
خدا سے التجائیں ہیں
بس اب یہی دُعائیں ہیں
کسی کا خون نہ بہے
امن خواب نہ رہے
بند ہو یہ قتلِ عام
چار سُو ہو روشنی
جگمگائیں صبح و شام
سدرہ ایاز
No comments:
Post a Comment