کب تلک در بہ در رہا جائے
کوئی گھر کو بھی راستہ جائے
میں محبت جتانا چاہتا ہوں
اس کو تحفے میں کیا دیا جائے
یونہی اٹھے کسی چراغ کی لو
اور سارے جہاں پہ چھا جائے
اس لیے تم کو پھول کہتا ہوں
پھول کو اور کیا کہا جائے
اس کے ہاتھوں کا زہر امرت ہے
سو اسی کو پلا دیا جائے
احمد معاذ
No comments:
Post a Comment