کرب انتظار
دستک کے انتظار میں
میرے گھر کے در جھولنے لگے
کواڑوں کی چوں چرخ میں
دستک کب کھو گئی
علم نہ ہو سکا
جھولتے در، گزراں لمحوں کے سنگ
بوسیدگی اوڑھتے چلے گئے
اور پھر اک روز باری باری
زمیں بوس ہو رہے
اب کیسی دستک، کون سی دستک
جب دروازے نہ رہیں
تو دستک کی نہ حاجت رہتی ہے
نہ امید اور نہ ہی خواہش
رابعہ درانی
No comments:
Post a Comment