Monday, 4 July 2022

ہم کو یہی گمان رہا بس گماں ہے یہ

 ہم کو یہی گمان رہا، بس گماں ہے یہ

یوں رفتہ رفتہ ہاتھ سے نکلا جہاں ہے یہ

جب جب لگا کہ سامنے منزل ہے آ لگی

رستوں نے مسکرا کے کہا؛ درمیاں ہے یہ

جاتے ہوئے کہا تھا؛ قیامت کو ملئے اب

میں منتظر ہی رہ گیا، جانے کہاں ہے یہ

جو حال کوئی پوچھے تو کہنا پڑے گا اب

جو ہمسفر نہیں تو سفر رائیگاں ہے یہ

کتنوں نے خالی جان کے دستک یہاں پہ دی

ہر بار ہم نے کہہ دیا؛ اُس کا مکاں ہے یہ

قصے میں میرے جو یہ محبت کی بات ہے

جھوٹے کسی گواہ کا سچا بیاں ہے یہ

وہ آئے مسکرا کے زمانے کو چھوڑ کر

خواہش ہو ممکنات کی ممکن کہاں ہے یہ

جب تک بہار تھی تو عجب بے رخی سی تھی

آئی خزاں تو کہہ دیا؛ تیرا جہاں ہے یہ

کہتے برا جو تجھ کو ہیں ان کو برا نہ کہہ

ابرک یہ اُن کا ظرف ہے اُن کی زباں ہے یہ


اتباف ابرک

No comments:

Post a Comment