کیا خبر تھی مِرا منصب مجھ سے پوچھا جائے گا
میں نے سمجھا تھا مِرا معیار پرکھا جائے گا
نفرتیں اک دن تجھے اس موڑ پر لے آئیں گی
آئینے میں اپنا چہرہ بھی نہ دیکھا جائے گا
دشمنِ جاں سے وفا کی بھیک مانگی جائے گی
آبگینہ اب کے پتھر سے تراشا جائے گا
آج کی شب بھی غنیمت ہے کہ کل اس شہر میں
آخری انساں کو سُولی پر چڑھایا جائے گا
مِرے اشکوں کو بجھا کر تُو بھی ہو گا مضطرب
اب مِرے گھر سے تِرے گھر تک اندھیرا جائے گا
جانِ جرار! اک تِرے سچ کو چھپانے کے لیے
کیا خبر تھی شہر میں جھوٹ بولا جائے گا
آغا جرار
No comments:
Post a Comment