Monday, 4 July 2022

تم ان آنکھوں کا درد جان ہی نہیں سکتے

 تم ان آنکھوں کا درد جان ہی نہیں سکتے


جو دن کی پہلی کرن سے رات کے گہرا ہونے تک 

تمہاری دستک کے انتظار میں 

آس بھری نگاہیں دروازے پر جما کر 

ہر لمحے کو سِسک کر گزارتی 

بالآخر بے مرادی کی سند میں بے آس ہوتی 

نم پلکیں جھکا کر اپنی جگہ سے ہٹ جاتی ہے

اس سمے ان آنکھوں کی کملی ذات کا ضبط 

جسم کے پنجرے میں سر پٹخ کر 

بلکتے ہوئے چلا کر کہہ رہا ہوتا ہے

کاش کسی ایک روز

تم دروازے کے اس پار 

تمہارے انتظار میں لمحہ لمحہ بکھر کر 

بے آرزو ہوتی ان آنکھوں کی 

کملی ذات کے در پر دستک دو

اور تب بدلے کی آگ میں جُھلستا 

ان آنکھوں کی کملی ذات کا ضبط 

تم سے ہر لمحے کا بدلہ لینے کو 

اس کی سماعت کو بہرہ کر دے

تم دستک دو اور دیتے ہی رہو

اس قدر کہ تمہارے ہاتھ تھک کر 

ہاتھ کی ہر نس کو ابھار دیں

انتظار کی سُولی پر کھڑے تمہارے پاؤں 

سُوجھ کر سُرخ ہو جائیں

تھکن کی زیادتی تمہیں دراز قد سے گراتے ہوئے 

دروازے کی چوکھٹ پر گرا دے

تم گر کر ان آنکھوں کی کملی ذات کو 

اس کے نام سے پکار کر دستک دے کر 

تھک چکے ہاتھ گرا کر رو دو

پھر شاید تم جان سکو کہ

دن کے آغاز سے رات کی گہرائی تک 

تمہاری دستک کی آس کسی کو 

کس قدر بے آس کر دیا کرتی ہے

کون کس طرح روز آرزو کو 

بے آرزو کرتا ہوا رو دیا کرتا ہے

مگر ان آنکھوں کی کملی ذات کا ضبط

اس ذات کو تمہارے جانے کا ملال اوڑھے دیکھ کر 

اس قدر پُر ملال رہتا ہے کہ وہ خود دعا کرتا ہے

کاش کسی ایک روز تم

تمہارے جانے کا ملال اوڑھ کر 

خود کو سیاہ بخت کہتی اس ذات کے در پر دستک دے لو

اعلٰی و ارفع ذات کی قسم

تمہاری آدھی ادھوری دستک پر ہی 

وہ دیوانہ وار ننگے پاؤں دوڑ کر آئے گی

دروازے کے اس پار تمہیں پا کر 

وہ گُھٹنوں کے بل گرتے ہوئے 

تمہارے قدموں کے بوسے لے گی

اس کی دیوانگی پر وہ تمہیں ہنستا دیکھ کر 

بہت سارا کھلکھلا دے گی

وہ لرزتے وجود کو 

مشکل سے پیروں کے سہارے دراز قد رکھتے ہوئے 

تمہارے بازو سے لپٹ جائے گی

وہ خوشی سے لرزتی آواز میں تمہیں پکار کر 

سارا گھر سر پر اٹھا لے گی

تمہارے آنے کی خوشی میں وہ دونوں ہاتھ بھر کر 

صدقہ خیرات کرے گی

گھر کی ساری بتیاں روشن کر کے 

جشن کا اعلان کرے گی

ہر سَکھی سہیلی کے بازوں میں بازوں ڈالے 

گھنٹوں کِکلی کھیلتے گزار دے گی

یقیناً وہ کملی ذات تمہیں پھر سے پا کر 

اپنی ذات کے غرور میں لوٹ آئے گی

وہ دعا کو گرا چکے ہاتھ پھر سے اٹھا کر 

تمہاری حیات کی درازی کے لیے پتھر کر دے گی

ایسا ممکن کرنے کے لیے

کاش تم کسی ایک روز

تمہارے لیے ماٹی ہوتی ذات کے در پر دستک دے کر 

اس کے انتظار کو اختتام بخش دو 


فرح طاہر

No comments:

Post a Comment