اک دو نہیں ہزاروں کو پردیس کھا گیا
گاؤں کے چاند تاروں کو پردیس کھا گیا
سڑکوں پہ پھر رہے ہیں یہ بیکار و مضطرب
سردی میں اشک باروں کو پردیس کھا گیا
فکرِ معاش ایک اذیت ہے مستقل
غربت میں غم کے ماروں کو پردیس کھا گیا
ہم تو رہے ہیں شہر کے لوگوں میں عمر بھر
لیکن ہمارے یاروں کو پردیس کھا گیا
اپنوں کی کج روی سے مِرے ہیں یہ بدنصیب
افسوس بے سہاروں کو پردیس کھا گیا
خط بھی نہ آئے ایک زمانے کے بعد بھی
بچپن کے شہر داروں کو پردیس کھا گیا
کتنی اداسیاں ہیں مضافات میں اسد
الفت میں بے قراروں کو پردیس کھا گیا
اسد اعوان
No comments:
Post a Comment