Friday, 2 June 2023

جان سے ایک دن ہم گزر جائیں گے

 جان سے ایک دن ہم گزر جائیں گے

بن کے خوشبو تمہاری بکھر جائیں گے

گر تصور میں جاناں تمہیں دیکھ لیں

آپ ہی آپ ہم تو سنور جائیں گے

حرف آیا ہماری وفا پر اگر

شدتِ رنج سے ہم تو مر جائیں گے

ہم قفس میں ہیں، صیاد آگاہ ہے

پر بُریدہ بھی پرواز کر جائیں گے

زرد پتوں کی مانند ہی اب تو ہم

شاخ سے ٹوٹتے ہی بکھر جائیں گے

رنج و غم میں کٹے جس طرح اپنے دن

اور باقی بھی یونہی گزر جائیں گے

ہے تمہارے سِوا،اب ٹھکانا کہاں

تم سے بچھڑے تو بولو، کِدھر جائیں گے

یاد رکھے گی دنیا درخشاں انہیں

کام اچھے جو دنیا میں کر جائیں گے


درخشاں صدیقی

No comments:

Post a Comment