جان سے ایک دن ہم گزر جائیں گے
بن کے خوشبو تمہاری بکھر جائیں گے
گر تصور میں جاناں تمہیں دیکھ لیں
آپ ہی آپ ہم تو سنور جائیں گے
حرف آیا ہماری وفا پر اگر
شدتِ رنج سے ہم تو مر جائیں گے
ہم قفس میں ہیں، صیاد آگاہ ہے
پر بُریدہ بھی پرواز کر جائیں گے
زرد پتوں کی مانند ہی اب تو ہم
شاخ سے ٹوٹتے ہی بکھر جائیں گے
رنج و غم میں کٹے جس طرح اپنے دن
اور باقی بھی یونہی گزر جائیں گے
ہے تمہارے سِوا،اب ٹھکانا کہاں
تم سے بچھڑے تو بولو، کِدھر جائیں گے
یاد رکھے گی دنیا درخشاں انہیں
کام اچھے جو دنیا میں کر جائیں گے
درخشاں صدیقی
No comments:
Post a Comment