عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جب مدینے کا مسافر کوئی پا جاتا ہوں
حسرت آتی ہے یہ پہنچا میں رہا جاتا ہوں
دو قدم بھی نہیں چلنے کی ہے مجھ میں طاقت
شوق کھینچے لیے جاتا ہے، میں کیا جاتا ہوں
قافلے والے چلے جاتے ہیں آگے آگے
مدد اے شوق! کہ پیچھے میں رہا جاتا ہوں
کاروانِ رہِ یثرب میں ہوں آوازِ درا
سب میں شامل ہو مگر سب سے جدا جاتا ہوں
اس لیے کہ نہ ملے روکنے والوں کو پتہ
محو کرتا ہوا نقشِ کفِ پا جاتا ہوں
فیضِ مولا سے ابھی صبر کی طاقت ہے امیر
جو کڑی سامنے آتی ہے اُٹھا جاتا ہوں
امیر مینائی
No comments:
Post a Comment