عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
سینہ میں اُنؐ کے عشق کو پالے ہوئے تو ہیں
تاریکیوں میں غم کی اُجالے ہوئے تو ہیں
ہم اہل تو نہیں، مگر اے ذاتِ مصطفےٰﷺ
پھر بھی تِرے کرم کے حوالے ہوئے تو ہیں
کیا جانے اپنا حال ہو کیا فرطِ شوق میں
مشکل سے اپنے دل کو سنبھالے ہوئے تو ہیں
ایسے میں کاش آئے نظر جلوۂ حرم
کانٹوں کی نذر پاؤں کے چھالے ہوئے تو ہیں
حیرت نہیں جو خلد میں پھر داخلہ ملے
آخر اسی جگہ سے نکالے ہوئے تو ہیں
اُمید ہے کہ حشر بھی ہو گا انہی کے ساتھ
سانچہ میں انؐ کے عشق کے ڈھالے ہوئے تو ہیں
محمود! اب نگاہِ کرمﷺ کا ہے انتظار
ہنگامِ سحر کچھ مِرے نالے ہوئے تو ہیں
سید ابوالفضل محمود قادری
No comments:
Post a Comment