دعائے آغاز رہائش
ہے شکر تیرا کہ تیرے کرم سے یا مولا
مکان ہم نے بنایا ہے، گھر تُو اس کو بنا
فقط یہ ایک عمارت نہ بن کے رہ جائے
بنے دلوں کو پرونے کا گوہریں رشتہ
سکون و راحت و آرام اس سے پائیں ہم
ہمارے واسطے ہو عافیت کا گہوارہ
ہے اتفاق جو نعمت، تو اتحاد میں شان
دلوں میں جاگزیں ہو جائے مولا! یہ نکتہ
گو نفسا نفسی کی طاری ہو تیرگی باہر
پہ ہم جلا کے رکھیں گھر میں اُلفتوں کا دِیا
کچھ اس طرح سے کِھلے یاں خلوص کا گُلشن
کہیں یہ لوگ؛ ہے خوشبوؤں سے یہ گھر مہکا
سدا بھرا رہے یہ گھر حلال روزی سے
نظر نہ آئے کبھی یاں حرام کا پیسہ
بچانا دُنیوی فتنوں سے تُو ہمارا گھر
الٰہی! تیری حفاظت کا پائیں ہم حلقہ
اگرچہ دائمی خوشحالی کے ہیں طالب ہم
پہ تیری دائمی رحمت ہو اصل سرمایہ
رہیں عزیز مِرے اس مکان میں شاداں
ہے عمر آخری کی یا خدا! یہ میری دعا
کبھی جو یاد میں آؤں، پڑھیں وہ نعتیں مِری
الٰہی! ایسا بھی اس گھر میں آئے اک لمحہ
لالۂ صحرائی
چوہدری محمد صادق
No comments:
Post a Comment