Thursday, 5 October 2023

قیس کہتا تھا یہی فکر ہے دن رات مجھے

 قیس کہتا تھا یہی فکر ہے دن رات مجھے

مار دے ناقۂ لیلیٰ نہ کہیں لات مجھے

رُخ روشن پہ فدا اور نہ سیہ زُلف کا خبط

نہ کوئی دن ہے مجھے اور نہ کوئی رات مجھے

مکتبِ عشق میں بیٹھا ہوا حل کرتا ہوں

جیسے الجبرا کے ملتے ہیں سوالات مجھے

بوتلیں بیچتے نخاس میں دیکھا اس کو

کس جگہ جا کے ملا پیرِ خرابات مجھے

غسل خانے میں یہ غسّال سے مُردہ بولا

جیل ہے قبر تو یہ گھر ہے حوالات مجھے

رشتۂ عمر ہے کم اور مِری رسی ہے دراز

آئی چرخے سے یہ آواز نہ تُو کات مجھے

نئی تہذیب نے معشوق کا فیشن بدلا

کارڈ بھیجوں تو میسّر ہو ملاقات مجھے

دردِ دل عشق میں ہے کاہے سے سیکوں میں ظریف

نہ فلالین ہی ملتی ہے، نہ بانات مجھے


ظریف لکھنوی

No comments:

Post a Comment