Tuesday, 10 October 2023

وقار صدق کہاں تھا حضور سے پہلے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


وقارِ صدق کہاں تھا حضورﷺ سے پہلے

دلوں پہ سچ بھی گِراں تھا حضورﷺ سے پہلے

گھٹائیں جہل کی چھائی تھیں رُوئے عالم پر

سحر پہ شب کا گُماں تھا حضورﷺ سے پہلے

ہر ایک شخص تھا نالاں نسب پرستی سے

زمانہ وقفِ فُغاں تھا حضورﷺ سے پہلے

دیارِ فہم و فراست بھی وائے محرومی

غریقِ سَیلِ رواں تھا حضورﷺ سے پہلے

بُتوں کی ہرزہ سرائی پہ بھی سرِ عالم

عجیب ہو کا سماں تھا حضورﷺ سے پہلے

گلی گلی میں تجارت تھی آدمیت کی

تمام سود، زیاں تھا حضورﷺ سے پہلے

بہار پر تو جو گُزری گُزری چکی ہو گی

خزاں کو خوفِ خزاں تھا حضورﷺ سے پہلے

زمیں میں دُخترِ زندہ کو دفن کر دینا

یہی انا کا نشاں تھا حضورﷺ سے پہلے

غضب تو یہ ہے خدائے جہاں کے گھر پر بھی

صنم کدے کا گُماں تھا حضورﷺ سے پہلے

لبِ سخن پہ قصیدے تھے ظلمتِ شب کے

یہی فروغِ بیاں تھا حضورﷺ سے پہلے

نجومِ شب کو تو چھوڑو سحر کا سورج بھی

سحابِ غم میں نہاں تھا حضورﷺ سے پہلے

اُلجھ کے شرک میں پیرِ حرم بھی اے راسخ

شہیدِ عشقِ بُتاں تھا حضورﷺ سے پہلے


راسخ عرفانی

No comments:

Post a Comment