Wednesday, 1 November 2023

پہلے تو ممکنات میں رکھا گیا مجھے

پہلے تو مُمکنات میں رکھا گیا مجھے

پھر عارضی ثبات میں رکھا گیا مجھے

میری یہاں پہ کوئی ضرورت ضرور تھی

ترتیبِ کائنات میں رکھا گیا مجھے

میں نے حیات و موت کو دیکھا قریب سے

ہر وقت حادثات میں رکھا گیا مجھے

اتنی حقیقتوں سے حقیقت کہاں مِلے

جتنے تخیّلات میں رکھا گیا مجھے

مرنا مِرا تو ایک تکلّف ہے دوستو

اک دائمی حیات میں رکھا گیا مجھے

افسوس ہے مجھے کہ بغاوت پسند ہوں

ورنہ کسی کی ذات میں رکھا گیا مجھے

گرچہ مِرا جنم تھا اماوس کی رات میں

روشن ہر ایک رات میں رکھا گیا مجھے

پیدا کِیا گیا،. مجھے مارا گیا کبھی

آصف یوں معجزات میں رکھا گیا مجھے


آصف علی علوی

No comments:

Post a Comment