کوئی بھی آئے گا تُربت پہ بھلا میرے بعد
خاک آ آ کے اُڑائے گی صبا میرے بعد
جیتے جی قدر کسی نے بھی نہ جانی افسوس
یاد میں روئے گا پھر کون بھلا میرے بعد
سب یہ منہ دیکھے کی باتیں ہیں کہاں کی الفت
یاد کرنے کے نہیں اہل جفا میرے بعد
قوم نے قدر نہ کی رہ گئی حسرت دل میں
میری تُربت سے یہ آئے گی صدا میرے بعد
فاتحہ پڑھنے کو آیا تو بہت رو رو کر
بخش دے اس کو خدا اس نے کہا میرے بعد
زندگی میں تو صِلہ میں نے نہ پایا ہرگز
کام سب میرے ہوں مقبول خدا میرے بعد
یہ وصیت ہے کہ جس کو ہے محبت مجھ سے
پھول تُربت پہ چڑھا جائے ذرا میرے بعد
پوچھتی تم سے حیا ہے؛ یہ بتا دو مجھ کو
اب نہیں آتے ہو پھر آؤ گے کیا میرے بعد
صغرا ہمایوں مرزا حیا
No comments:
Post a Comment