قدم قدم پہ یہاں دلفریب دھوکا ہے
اسی فریب مسلسل کا نام دنیا ہے
تمام دنیا سے انسان کھیلتا ہے مگر
کسی کے ہاتھ میں انسان خود کھلونا ہے
ہمارے ساتھ نہیں ہے ہمارا دل بھی مگر
تمہارے ساتھ تو دنیا ہے ساری دنیا ہے
کسی نے پیار سے اک بار مجھ کو دیکھا تھا
مِری نظر میں ابھی تک وہی نظارا ہے
ہر ایک دور میں کوشش بہت ہوئی لیکن
جہاں میں آج بھی انساں سمجھ سے بالا ہے
یہی بہت ہے کہ تو میرے دل میں ہے ورنہ
تِرا مقام تو عرشِ بریں سے اونچا ہے
روشن لال روشن
No comments:
Post a Comment