زبان سنگ سے مجھ کو پکارتے جاؤ
یہ قرض بھی مِرے سر سے اتارتے جاؤ
ہر ایک رات ہے منسوب کوئے قاتل سے
یہ رات بھی سرِ مقتل گزارتے جاؤ
حروف بارِ حکایت اٹھا نہیں سکتے
ورق ورق کوئی چہرہ اتارتے جاؤ
صلیبِ گوش ہے گو حرفِ آرزو پھر بھی
سماعتوں کے دریچے سنوارتے جاؤ
جو زخمِ دل ہو تو مہکاؤ گل کدہ کی طرح
جو موجِ خوں ہو تو سر سے اتارتے جاؤ
مرتضیٰ علی شاد
No comments:
Post a Comment