دنیا کی رہ پہ یار ہمارا بھی چل پڑا
جس ٹیک پر تھے ہم وہ سہارا بھی چل پڑا
آنکھیں بندھی ہوئی تھیں مناظر کی ڈور سے
کشتی چلی تو ساتھ کنارا بھی چل پڑا
حالانکہ آزمایا ہوا تھا وہ ایک بار
لیکن میں اس کے ساتھ دوبارہ بھی چل پڑا
مشکل تھا انتظار سو سورج کو ڈھونڈنے
ہمراہ میرے صبح کا تارا بھی چل پڑا
دل میں جو آگ تھی وہی ہونٹوں پہ آ گئی
لفظوں کی آڑ لے کے شرارہ بھی چل پڑا
فیصل طفیل
No comments:
Post a Comment