Tuesday, 6 January 2026

دنیا کی رہ پہ یار ہمارا بھی چل پڑا

 دنیا کی رہ پہ یار ہمارا بھی چل پڑا

جس ٹیک پر تھے ہم وہ سہارا بھی چل پڑا

آنکھیں بندھی ہوئی تھیں مناظر کی ڈور سے

کشتی چلی تو ساتھ کنارا بھی چل پڑا

حالانکہ آزمایا ہوا تھا وہ ایک بار

لیکن میں اس کے ساتھ دوبارہ بھی چل پڑا

مشکل تھا انتظار سو سورج کو ڈھونڈنے

ہمراہ میرے صبح کا تارا بھی چل پڑا

دل میں جو آگ تھی وہی ہونٹوں پہ آ گئی

لفظوں کی آڑ لے کے شرارہ بھی چل پڑا


فیصل طفیل

No comments:

Post a Comment