وہی قیدِ نظر، قیدِ زباں ہے
قفس کا نام گویا آشیاں ہے
نہ چھیڑ اس دور میں یہ مردہ نغمے
غزل سننے کی اب فرصت کہاں ہے
زمانہ کھیلتا ہے آنسوؤں سے
سرِ کہسار ٹھکراتا ہوا چل
کہ جو پیدا ہے وہ تجھ میں نہاں ہے
گزرگاہِ مہ و پروین ہے محدود
مگر تیری خودی آشفتہ جاں ہے
بسمل دہلوی
No comments:
Post a Comment