نہ کرو جدا خدارا مجھے اپنے آستاں سے
نہ ملے گا پھر سہارا جو اٹھا دیا یہاں سے
یہی میری بندگی ہے، یہی میری سجدہ ریزی
کہ ذرا لپٹ کہ رو لوں تیرے سنگِ آستاں سے
تُو ہزار بار ٹھکرا، میرا سر یہیں جھکے گا
مجھے خاک میں ملا کر میری خاک بھی اڑا دے
تیرے نام پہ مٹا ہوں مجھے کیاغرض نشاں سے
نہ ہو پاس ان کے پردہ، نہ یہ پردہ داریاں ہوں
میری دکھ بھری کہانی جو سنے میری زباں سے
اس خاکِ آستاں میں اک دن فنا بھی ہو گا
کہ بنا ہوا ہے بیدؔم،۔۔ اسی خاکِ آستاں سے
بیدم شاہ وارثی
No comments:
Post a Comment