Monday, 2 January 2017

نہ کرو جدا خدا را مجھے اپنے آستاں سے

نہ کرو جدا خدارا مجھے اپنے آستاں سے
نہ ملے گا پھر سہارا جو اٹھا دیا یہاں سے
یہی میری بندگی ہے، یہی میری سجدہ ریزی
کہ ذرا لپٹ کہ رو لوں تیرے سنگِ آستاں سے
تُو ہزار بار ٹھکرا، میرا سر یہیں جھکے گا
میرے دل میں ہے محبت تیرے سنگ آستاں سے
مجھے خاک میں ملا کر میری خاک بھی اڑا دے
تیرے نام پہ مٹا ہوں مجھے کیاغرض نشاں سے
نہ ہو پاس ان کے پردہ، نہ یہ پردہ داریاں ہوں
میری دکھ بھری کہانی جو سنے میری زباں سے
اس خاکِ آستاں میں اک دن فنا بھی ہو گا
کہ بنا ہوا ہے بیدؔم،۔۔ اسی خاکِ آستاں سے

بیدم شاہ وارثی

No comments:

Post a Comment