Monday, 2 January 2017

اس طرف بھی کرم اے رشک مسیحا کرنا

اس طرف بھی کرم اے رشکِ مسیحا کرنا
کہ تمہیں آتا ہے بیمار کو اچھا کرنا
بے خودِ جلوہ سے کہتا ہے جلوہ ان کا
لطفِ نظارہ اٹھا ہوش سنبھالا کرنا
اے جنوں کیوں لیے جاتا ہے بیاباں میں مجھے
جب تجھے آتا ہے گھر کو میرے صحرا کرنا
جب بجُز تیرے کوئی دوسرا موجود نہیں
پھر سمجھ میں نہیں آتا تیرا پردہ کرنا
یہی دو کام ہیں ناکامِ محبت کے لیے
کبھی ان کا کبھی تقدیر کا شکوہ کرنا
ہم بھی دیکھیں تیرے آئینۂ رخ کو لیکن
شاق ہے گردِ نظر سے اسے دھندلا کرنا
کوئی جا ہو، حرم ہو، کہ صنم خانہ ہو
ہم کو نقشِ قدمِ یار پہ سجدہ کرنا
دیکھ لے جا کے وہ دریا پہ تماشاۓ حباب
جس کو منظور ہو نظارۂ دنیا کرنا
پردۂ ہستیِ موہوم ہٹا دو پہلے
پھر جہاں چاہو وہاں یار کو دیکھا کرنا
شکوہ اور شکوۂ محبوب الہٰی توبہ
کفر ہے مذہبِ عشاق پہ شکوہ کرنا
ایک تم ہو کہ تمہیں بات کا کچھ پاس نہیں
اور ایک ہم کہ ہمیں منہ سے جو کہنا کرنا
وہ میرے اشک کو دامن میں جگہ دیتے ہیں
یعنی منظور ہے اس قطرے کو دریا کرنا
ایسی آنکھوں کے تصدق مری آنکھیں بیدؔم
کہ جنہیں آتا ہے اغیار کو اپنا کرنا

بیدم شاہ وارثی

No comments:

Post a Comment