مقسومِ دل کروں خلشِ نشتر کو میں
اب کے تِری نظر سے لڑا دوں نظر کو میں
میرا مذاقِ عشق زمانے پہ کھل گیا
اب کیا کہوں چھپا نہ سکا چشمِ تر کو میں
خموشئ جمود میں پھونکوں گا صورِ حشر
یا آرزو نے عمرِ محبت سنوار دی
یا دستِ آرزو سے گیا عمر بھر کو میں
کتنی گداز بخش ہے صبحِ تجلیات
پاتا ہوں ہر نفس میں نسیمِ سحر کو میں
گر یہ نشاطِ چشم ہے اے بے خودی مگر
کس دھوپ میں سکھاؤں گا دامانِ تر کو میں
ساغؔر یہ ہے شباب میں معیارِ مے کشی
آنکھوں سے کھنچتا ہوں شرابِ نظر کو میں
ساغر نظامی
No comments:
Post a Comment