Monday, 2 January 2017

ہم چلے اس جہاں سے دل اٹھ گیا یہاں سے

فلمی گیت

ہم چلے اس جہاں سے 
دل اٹھ گیا یہاں سے
انہیں دے دو خبر مر چلے ہم مگر
لے چلے یاد ان کی یہاں سے
ہم چلے اس جہاں سے 

یوں بھی ہوں گی محبت کی رسوائیاں
میرے مرنے پہ گونجیں گی شہنائیاں
روۓ گی موت بھی بے کسی پہ مری
جب اٹھے گا جنازہ یہاں سے
ہم چلے اس جہاں سے 
دل اٹھ گیا یہاں سے 

اب جئیں تو جئیں کس کی خاطر جئیں
زندگی کا زہر کس خوشی میں پئیں
جب بنا آشیاں جب کھلا گلستاں
گِر پڑیں بجلیاں آسماں سے
ہم چلے اس جہاں سے 
دل اٹھ گیا یہاں سے

زندگی کا چھلکنے کو اب جام ہے
مرتے مرتے بھی لب پہ تِرا نام ہے
تُو سلامت رہے، تا قیامت رہے
ہم اکیلے چلے ہیں یہاں سے
ہم چلے اس جہاں سے
دل اٹھ گیا یہاں سے

انہیں دے دو خبر مر چلے ہم مگر
لے چلے یاد ان کی یہاں سے

مشیر کاظمی

No comments:

Post a Comment