فلمی گیت
ہم چلے اس جہاں سے
دل اٹھ گیا یہاں سے
انہیں دے دو خبر مر چلے ہم مگر
لے چلے یاد ان کی یہاں سے
ہم چلے اس جہاں سے
یوں بھی ہوں گی محبت کی رسوائیاں
میرے مرنے پہ گونجیں گی شہنائیاں
روۓ گی موت بھی بے کسی پہ مری
جب اٹھے گا جنازہ یہاں سے
ہم چلے اس جہاں سے
دل اٹھ گیا یہاں سے
اب جئیں تو جئیں کس کی خاطر جئیں
زندگی کا زہر کس خوشی میں پئیں
جب بنا آشیاں جب کھلا گلستاں
گِر پڑیں بجلیاں آسماں سے
ہم چلے اس جہاں سے
دل اٹھ گیا یہاں سے
زندگی کا چھلکنے کو اب جام ہے
مرتے مرتے بھی لب پہ تِرا نام ہے
تُو سلامت رہے، تا قیامت رہے
ہم اکیلے چلے ہیں یہاں سے
ہم چلے اس جہاں سے
دل اٹھ گیا یہاں سے
انہیں دے دو خبر مر چلے ہم مگر
لے چلے یاد ان کی یہاں سے
مشیر کاظمی
No comments:
Post a Comment