Monday, 2 January 2017

کتنا پیارا وعدہ ہے ان متوالی آنکھوں کا

فلمی گیت

کتنا پیارا وعدہ ہے ان متوالی آنکھوں کا 
اس مستی میں سُوجھے نہ کیا کر ڈالوں حال موہے سنبھال 
او ساتھیا، او بیلیا 

ہو اجالا یا اندھیرا کہیں نہ چھوٹے ساتھ تیرا 
کوئی میرا ہو نہ تیرے بن پیا نبھانا ساتھ میرا 
ارے کورا کورا، گورا گورا یہ انگ تورا ہائے 
پاگل موہے بنا دیا 
کتنا پیارا وعدہ ہے ان متوالی آنکھوں کا 
اس مستی میں سوجھے نہ کیا کر ڈالوں حال موہے سنبھال 

برسوں میں نے من جلایا، ملی پلکوں کی تب یہ چھایا 
کانٹے میرے تن میں ٹوٹے، گلے سے تُو نے تب لگایا 
او سئیاں پیارے چلتا جا رے، بئیاں ڈالے ہائے 
گروا توہے لگا لیا 
کتنا پیارا وعدہ ہے ان متوالی آنکھوں کا 
اس مستی میں سوجھے نہ کیا کر ڈالوں حال موہے سنبھال 

روز اٹھا یہ نیَنْوا، چھؤا کروں گی تورا منوا 
جیسے پہلی بار چاہا، سدا چاہوں گی میں سجنوا 
ہائے تیرے نیناں، میرے نیناں پھر کیا کہنا ہائے 
کیا کیا نہ میں نے پا لیا 
کتنا پیارا وعدہ ہے ان متوالی آنکھوں کا 
اس مستی میں سوجھے نہ کیا کر ڈالوں حال موہے سنبھال 
او ساتھیا، او بیلیا

مجروح سلطانپوری

No comments:

Post a Comment