Sunday, 23 August 2020

نسیم صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہو گی

نسیمِ صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہو گی
کسی کی آخری ہچکی، کسی کی دل لگی ہو گی
تیرے قدموں پہ سر ہو گا قضا سر پہ کھڑی ہو گی
پھر اس سجدے کا کیا کہنا، انوکھی بندگی ہو گی
مزہ آ جائے گا محشر میں کچھ سننے سنانے کا
زباں تو میری ہو گی،۔ کہانی آپ کی ہو گی
بتا دوں گا سرِ محفل، دِکھا دوں گا سرِ محشر
وہ میرے سامنے ہونگے یہ دنیا دیکھتی ہو گی
تمہیں دانستہ محفل میں جو دیکھا ہو تو مجرم ہوں
نظر👁 آخر نظر ہے، بے ارادہ اٹھ گئی ہو گی
یہی عالم رہا پردہ👰 نشینی کا تو ظاہر ہے
خدائی آپ سے ہو گی نہ ہم سے بندگی ہو گی
تعجب کیا، لگی جو آگ اے سیماب سینے میں
ہزاروں دل میں انگارے بھرے تھے، لگ گئی ہو گی

سیماب اکبر آبادی

No comments:

Post a Comment