راز آشنائی کا، راز آشنا کیا جانے
دل سے جو نہ ہو آگاہ، دل کی بات کیا جانے
اس کی بے نیازی کا وزن کوئی کیا جانے
جو، نہ سیر دامن ہو اور نہ مانگنا جانے
عشق ہے تجاہل کیش، حسن ہے تغافل خُو
جانتا ہے وہ اس کا رازِ جلوہ پیرائی
جو نگاہ کی حد سے دور دیکھنا جانے
یہ تو میری نظروں نے دلنوازیاں دی ہیں
ورنہ وہ نظر رسمِ التفات کیا جانے
میری ہر نظر سجدہ، میرا ہر نفس تسبِیح
اور کس کو کہتے ہیں بندگی خدا جانے
اس کو دیکھتے ہیں وہ، اس سے بات کرتے ہیں
جو، نہ دیکھنا جانے اور نہ بولنا جانے
جھک گئی جبیں میری رہگزار میں اس کی
سجدہ تھا کہ سودا تھا، اب یہ نقشِ پا جانے
دل نے مطمئن ہو کر ایک بار اسے دیکھا
پھر مِرا سکونِ دل کیا ہُوا، خدا جانے
حسن رنگ و نور اس میں بھر رہا ہے پیوستہ
کس قدر بھیانک تھی زندگی، خدا جانے
اس کو خود نہیں فرصت کاہشِ مسلسل سے
حسن کیوں فسردہ ہے عشق کی بلا جانے
میں کسی سے دنیا میں آشنا نہیں سیماب
خود ہی جو مسافر ہو، وہ کسی کو کیا جانے
سیماب اکبر آبادی
No comments:
Post a Comment