گھر وہ گھر ہی نہیں، یہ طور خدایا کیا ہیں
زندہ جو لوگ ہیں، وہ لوگ بھی زندہ کیا ہیں
اہلِ طوفاں کو ہے اپنے ہی مد و جزر کی فکر
کیا خبر ان کو، کہ قصے لبِ دریا کیا ہیں
دشنۂ حرف نہیں زخمِ قناعت کا علاج
فردِ غفلت کو پڑھیں بھی تو وہ ٹھنڈے دل سے
کچھ دیانت کے تقاضے ہیں، سو بےجا کیا ہیں
اپنی آنکھوں نے انہیں شہر بنا رکھا ہے
ورنہ یہ شہر تماشے سے زیادہ کیا ہیں
چلیے اب صورتِ ہمراہئ یاراں نہ سہی
درد و غم ساتھ ہیں ہم ایسے بھی تنہا کیا ہیں
کس کے اقدارِ کم و بیش کا تخمینہ کریں؟
اپنے اوصاف سے ہم خود بھی شناسا کیا ہیں
شرطِ آداب عبارت ہے عجب دل کی حریف
لکھتے ہم کیا ہیں، اور اسبابِ تمنا کیا ہیں
محشر بدایونی
No comments:
Post a Comment