صنعتوں کی ڈال چادر رکھ سخن کی آبرو
بے ردا مجروح ہوتی ہے دلہن کی آبرو
چھوڑ کر کے جا رہا ہوں چند سکے اس لیے
ہم کو رکھنی ہے میاں اپنے کفن کی آبرو
باغبانوں سے کہو غفلت سے اب بیدار ہوں
گردشوں میں فکر کی پرواز تھم جاتی ہے جب
لفظ رکھ لیتے ہیں ہر ذوق سخن کی آبرو
عصمتوں کی تم ردا سر سے کبھی گرنے نہ دو
گر بچانی ہو تمہیں اپنے بدن کی آبرو
آسماں کی آنکھ سے جب جب کبھی آنسو گرے
یہ زمیں بڑھ کر چھپاتی ہے گگن کی آبرو
دل رگوں میں جاگ اٹھا ہے شہادت کا جنوں
آ گئی خطرے میں شاید پھر وطن کی آبرو
دل سکندر پوری
No comments:
Post a Comment