Friday, 21 August 2020

بے ردا مجروح ہوتی ہے دلہن کی آبرو

صنعتوں کی ڈال چادر رکھ سخن کی آبرو 
بے ردا مجروح ہوتی ہے دلہن کی آبرو 
چھوڑ کر کے جا رہا ہوں چند سکے اس لیے 
ہم کو رکھنی ہے میاں اپنے کفن کی آبرو
باغبانوں سے کہو غفلت سے اب بیدار ہوں 
اس سے پہلے لوٹ لے کوئی چمن کی آبرو
گردشوں میں فکر کی پرواز تھم جاتی ہے جب 
لفظ رکھ لیتے ہیں ہر ذوق سخن کی آبرو 
عصمتوں کی تم ردا سر سے کبھی گرنے نہ دو 
گر بچانی ہو تمہیں اپنے بدن کی آبرو 
آسماں کی آنکھ سے جب جب کبھی آنسو گرے 
یہ زمیں بڑھ کر چھپاتی ہے گگن کی آبرو
دل رگوں میں جاگ اٹھا ہے شہادت کا جنوں
آ گئی خطرے میں شاید پھر وطن کی آبرو

دل سکندر پوری

No comments:

Post a Comment