Friday, 21 August 2020

شام گھر جائے گی میں کدھر جاؤں گا

شام گھر جائے گی، میں کدھر جاؤں گا
آس مر جائے گی، میں کدھر جاؤں گا
وہ پری ایک دن چھوڑ کر جو مجھے
چاند پر جائے گی، میں کدھر جاؤں گا
تُو جدھر جائے گی، جاؤں گا میں اُدھر
تُو کدھر جائے گی، میں کدھر جاؤں گا
زندگی! تیری طرح گزرتا ہوں میں
تُو گزر جائے گی، میں کدھر جاؤں گا
تیرا گھر ہے اُدھر، میرا گھر ہے کھنڈر
تُو اُدھر جائے گی، میں کدھر جاؤں گا
تیرے وعدے پہ سب چھوڑ آیا ہوں میں
تُو مُکر جائے گی، میں کدھر جاؤں گا
ایک دن یہ طبیعت مِری جانِ جاں
تجھ سے بھر جائیگی، میں کدھر جاؤں گا

علی ارمان

No comments:

Post a Comment