Friday, 21 August 2020

بیزاری سے بھی اب مجھے بیزاری ہوتی ہے

کرتا ہوں میں نہ مجھ سے ریاکاری ہوتی ہے
رندانِ با صفا میں یہ بیماری ہوتی ہے
صحرا کے مدرسے میں فقط قیس ہی نہیں
میرے بھی دستخط سے سند جاری ہوتی ہے
ہوتا نہیں خراب ہر اک دشت میں وہ شخص
جس کو تلاشِ آہوئے تاتاری ہوتی ہے
سورج نکلتا ہے مِری ہر ایک پور میں
جب شامِ زلفِ سیم تناں طاری ہوتی ہے
تُو اشک باری دیکھنے آیا ہے، بیٹھ جا
اور دیکھ کیسے آنکھ سے خونباری ہوتی ہے
شامِ سبو کے سامنے کھلتا ہے میرا پول
دن بھر تو قہقہوں کی اداکاری ہوتی ہے
تفصیل اس لڑائی کی مجھ سے نہ پوچھیے
ہر روز میری شام سے منہ ماری ہوتی ہے
ارمان بے دلی کا نہیں ہے کوئی علاج
بیزاری سے بھی اب مجھے بیزاری ہوتی ہے

علی ارمان

No comments:

Post a Comment