کرتا ہوں میں نہ مجھ سے ریاکاری ہوتی ہے
رندانِ با صفا میں یہ بیماری ہوتی ہے
صحرا کے مدرسے میں فقط قیس ہی نہیں
میرے بھی دستخط سے سند جاری ہوتی ہے
ہوتا نہیں خراب ہر اک دشت میں وہ شخص
سورج نکلتا ہے مِری ہر ایک پور میں
جب شامِ زلفِ سیم تناں طاری ہوتی ہے
تُو اشک باری دیکھنے آیا ہے، بیٹھ جا
اور دیکھ کیسے آنکھ سے خونباری ہوتی ہے
شامِ سبو کے سامنے کھلتا ہے میرا پول
دن بھر تو قہقہوں کی اداکاری ہوتی ہے
تفصیل اس لڑائی کی مجھ سے نہ پوچھیے
ہر روز میری شام سے منہ ماری ہوتی ہے
ارمان بے دلی کا نہیں ہے کوئی علاج
بیزاری سے بھی اب مجھے بیزاری ہوتی ہے
علی ارمان
No comments:
Post a Comment