اک منتظرِ وعدہ کی شمع 🕯 جلی ہو گی
سورج کے نکلنے سے کیا رات ڈھلی ہو گی
بتلائیں ٹھکانا کیا چھوٹے ہوئے گلشن میں
گزرو گے تو دیکھو گے اِک شاخ جلی ہو گی
بس ایک تمنا ہو جس کے دلِ ویراں میں
نکلے تِری محفل سے تو ساتھ نہ تھا کوئی
شاید مِری رسوائی کچھ دور چلی ہو گی
کل رات جو میں گزرا اک نور کا تڑکا تھا
مسرور بتاؤ تو وہ کس کی گلی ہو گی؟؟
علیم مسرور
No comments:
Post a Comment