Saturday, 8 August 2020

سورج کے نکلنے سے کیا رات ڈھلی ہو گی

اک منتظرِ وعدہ کی شمع 🕯 جلی ہو گی
سورج کے نکلنے سے کیا رات ڈھلی ہو گی
بتلائیں ٹھکانا کیا چھوٹے ہوئے گلشن میں
گزرو گے تو دیکھو گے اِک شاخ جلی ہو گی
بس ایک تمنا ہو جس کے دلِ ویراں میں
سوچو تو ذرا کتنے نازوں کی پلی ہو گی
نکلے تِری محفل سے تو ساتھ نہ تھا کوئی
شاید مِری رسوائی کچھ دور چلی ہو گی
کل رات جو میں گزرا اک نور کا تڑکا تھا
مسرور بتاؤ تو وہ کس کی گلی ہو گی؟؟

علیم مسرور

No comments:

Post a Comment