Thursday, 6 August 2020

وہ مرے اس قدر قریب ہوا​

وہ مِرے اس قدر قریب ہوا​
اس سے ملنا نہ پھر نصیب ہوا​
آپ سے اب کوئی ملال نہیں​
شکر ہے کچھ سکوں نصیب ہوا​
ہاتھ رکھتے ہی نبض پر میری​
کس قدر مضطرب طبیب ہوا​
دیکھ آیا ہے آج خود بھی انہیں​
آج کچھ "مطمئن" طبیب ہوا​
میں تو چپ ہی رہوں گا محشر میں​
وہ "پری" وش اگر قریب ہوا​
تجھ سے کیا چیز قیمتی ہوگی​؟
تُو تو پیارے مِرا حبیب ہوا​
پوجتی ہے عدم جسے دنیا​
کون اتنا بڑا "ادیب" ہوا​؟
دو ہی با ذوق آدمی ہیں عدم​
میں ہوا یا مِرا رقیب ہوا​

عبدالحمید عدم​

No comments:

Post a Comment