وہ مِرے اس قدر قریب ہوا
اس سے ملنا نہ پھر نصیب ہوا
آپ سے اب کوئی ملال نہیں
شکر ہے کچھ سکوں نصیب ہوا
ہاتھ رکھتے ہی نبض پر میری
دیکھ آیا ہے آج خود بھی انہیں
آج کچھ "مطمئن" طبیب ہوا
میں تو چپ ہی رہوں گا محشر میں
وہ "پری" وش اگر قریب ہوا
تجھ سے کیا چیز قیمتی ہوگی؟
تُو تو پیارے مِرا حبیب ہوا
پوجتی ہے عدم جسے دنیا
کون اتنا بڑا "ادیب" ہوا؟
دو ہی با ذوق آدمی ہیں عدم
میں ہوا یا مِرا رقیب ہوا
عبدالحمید عدم
No comments:
Post a Comment