Thursday, 6 August 2020

جاں کے زیاں کو غم کی تلافی سمجھ لیا

جاں کے "زیاں" کو غم کی تلافی سمجھ لیا
کم حوصلوں نے موت کو شافی سمجھ لیا
جو گفتگو میں سب سے ضروری تھا وہ سخن
ان کی "سماعتوں" نے "اضافی" سمجھ لیا
اک شرط جستجو بھی تھی منزل کے واسطے
ہم نے بس "آرزو" کو ہی کافی سمجھ لیا
جاذب نہ جانے کون سی دنیا کا شخص تھا
جس نے "سزاؤں" کو بھی معافی سمجھ لیا

شکیل جاذب

No comments:

Post a Comment