جاں کے "زیاں" کو غم کی تلافی سمجھ لیا
کم حوصلوں نے موت کو شافی سمجھ لیا
جو گفتگو میں سب سے ضروری تھا وہ سخن
ان کی "سماعتوں" نے "اضافی" سمجھ لیا
اک شرط جستجو بھی تھی منزل کے واسطے
جاذب نہ جانے کون سی دنیا کا شخص تھا
جس نے "سزاؤں" کو بھی معافی سمجھ لیا
شکیل جاذب
No comments:
Post a Comment